انتخابی ووٹ — مغرب میں مسلمان: دستبرداری اور شرکت کے درمیان
مغرب میں مسلمانوں کی سیاسی شرکت کی فقہی و مقاصدی قرأت
امریکہ، یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں کروڑوں مسلمان بستے ہیں، لیکن ان کا سیاسی اثر ان کی تعداد سے کہیں کم ہے۔ اس کی سب سے عام وجہ یہ نہیں کہ وہ ووٹر کے طور پر اندراج نہیں کر سکتے یا طریقۂ کار سے ناواقف ہیں، بلکہ ایک ایسا موقف ہے جو دینی الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: «ووٹ دینا حرام ہے، انتخابات ایک ایسا نظام ہے جس سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں، ہماری وفاداری اللہ کے لیے ہے، مغربی ریاست کے لیے نہیں۔»
اس موقف کی فقہی جڑیں ہیں جنہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ لیکن اس مضمون کا اصل سوال یہ ہے: کیا سیاسی خاموشی کوئی دینی فریضہ ہے؟ یا یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی قیمت مسلمان — اور اس کے بعد اس کی اولاد — مغرب میں اپنے حقیقی مفادات کی صورت میں ادا کرتے ہیں؟
پہلی بات: اصل مسئلہ کیا ہے؟
سیاسی شرکت کوئی ایک چیز نہیں، بلکہ اس کے کئی درجے ہیں:
انتخابات میں ووٹ دینا، چاہے صدارتی ہوں، قانون ساز اسمبلی کے ہوں یا مقامی (اسکول بورڈ، بلدیاتی کونسلیں)۔ عوامی عہدوں کے لیے امیدوار بننا، محلے کی کونسل سے لے کر کانگریس تک۔ مشاورتی اور پالیسی سازی کے اداروں میں کام کرنا، یا قانون سازوں تک اپنی بات پہنچانا (lobbying)۔ شہری مہمات اور اجتماعی دباؤ کی کوششوں میں حصہ لینا (advocacy)۔
فقہ میں ان چاروں درجوں کا حکم ایک جیسا نہیں۔ یہ مضمون بنیادی طور پر ووٹ دینے اور امیدوار بننے کے مسئلے پر بات کرتا ہے، کیونکہ مغرب کے مسلمانوں میں سب سے نمایاں فقہی اختلاف انہی دو باتوں پر ہے۔
دوسری بات: فقہی آرا — بیان اور جائزہ
پہلی رائے: ممانعت
اس رائے کے قائلین چند بنیادوں پر اپنی دلیل قائم کرتے ہیں:
یہ کہ کسی غیر مسلم امیدوار یا غیر اسلامی قانون کے حق میں ووٹ دینا اس مُوالات (دوستی اور وفاداری) کی ایک صورت ہے جس سے منع کیا گیا ہے، اور ایک ایسے نظام کو جائز اور برحق تسلیم کرنا ہے جو وحی پر قائم نہیں۔
اور یہ کہ مغربی انتخابات سیکولر بنیاد پر قائم ہیں، لہٰذا ان میں حصہ لینا ایک ایسے نظام کو جواز فراہم کرنا ہے جو اللہ کی حاکمیت کو نہیں مانتا۔
یہ ایک قابلِ احترام اور معتبر رائے ہے، جس کے قائل اہلِ علم موجود ہیں، اور یہ دین کے بنیادی اصولوں کے لیے سچی غیرت سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن مسلم معاشروں کے پاس تو حقیقی متبادل موجود ہیں؛ جب یہی رائے وہاں سے اٹھا کر مغرب کی مسلم اقلیتوں پر لاگو کی جاتی ہے، جو بالکل مختلف حالات میں جی رہی ہیں، تو اس پر گہری نظرِ ثانی کی ضرورت پڑتی ہے۔
دوسری رائے: جائز بلکہ پسندیدہ
یہ رائے بہت سے محقق علما نے اختیار کی ہے، جن میں شیخ یوسف القرضاوی رحمہ اللہ، فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ (FCNA)، یورپی کونسل برائے افتا و تحقیق، اور مغرب میں کام کرنے والے بہت سے علما شامل ہیں۔
ان کی دلیل تین بنیادوں پر قائم ہے:
پہلی: مسلمانوں کا اجتماعی مفاد۔ سیاسی شرکت سے حقیقی اور قابلِ پیمائش فائدے حاصل ہوتے ہیں: مذہبی آزادی کا تحفظ، مساجد اور اسلامی اسکولوں کا دفاع، اور ان قوانین پر اثر انداز ہونا جو مسلمانوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اور ان مفادات کی حفاظت ایک شرعی ذمہ داری ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں۔
دوسری: «أخفّ الضررین» کا قاعدہ، یعنی دو نقصانوں میں سے کم تر کو اختیار کرنا۔ جب کوئی مثالی امیدوار نہ ہو اور کوئی حقیقی شرعی متبادل بھی موجود نہ ہو، تو انتخاب دو امیدواروں کے درمیان رہ جاتا ہے جن میں سے ایک مسلمانوں کے لیے کم نقصان دہ ہوتا ہے۔ اسلامی فقہ اپنی نصوص اور اصولوں کے ساتھ کم تر نقصان کو اختیار کرنے کی رہنمائی کرتی ہے، نہ کہ ایسی خاموشی کی جو زیادہ نقصان دہ فریق کو طاقت دے سکتی ہے۔
تیسری: سیاسی شمولیت کی قرآنی مثالیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرعون کے ملک کے خزانوں کی ذمہ داری مانگی:
﴿اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ﴾«مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے، میں ان کی اچھی حفاظت کرنے والا اور اس کام کو خوب جاننے والا ہوں۔» (یوسف: ۵۵)
یہ ایک ایسی ریاست میں عہدہ تھا جو شریعت کے مطابق نہیں چلتی تھی، اور ایک برگزیدہ نبی نے اسے قبول کیا کیونکہ یہی ایک بڑی بھلائی حاصل کرنے کا دستیاب ذریعہ تھا۔ اسی طرح حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے اسلام قبول کیا اور مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر شریعت کے علاوہ نظام کے مطابق حکومت کرتے رہے؛ نبی کریم ﷺ نے ان کی تعریف کی اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ یہ دونوں مثالیں ایک بنیادی اصول قائم کرتی ہیں: مسلمانوں کے مفاد کی خاطر موجودہ نظام میں شامل ہونا جائز اور درست ہے، چاہے وہ نظام اسلام پر قائم نہ ہو۔
تیسری بات: مقاصدی نظر — ووٹ، شریعت کے بنیادی مقاصد کی میزان میں
شریعت کے پانچ بنیادی مقاصد مسلمان کے سیاسی فیصلے سے الگ نہیں رہتے، بلکہ اس سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں:
دین کی حفاظت: عبادت کی آزادی، مساجد کی تعمیر، بچوں کی اسلامی اسکولوں میں تعلیم، عوامی جگہوں پر حجاب اور نقاب پہننا… یہ سب قانونی حقوق ہیں جو ان پالیسیوں سے جڑے ہیں جنہیں وہ لوگ بناتے ہیں جنہیں عوام ووٹ دیتے ہیں۔ جو مسلمان ووٹ سے کنارہ کش ہو جائے، یہ معاملات اس کے بغیر طے ہو جاتے ہیں — اور ان لوگوں کے حق میں جو ووٹ ڈالنے آتے ہیں۔
جان کی حفاظت: امیگریشن اور پناہ کے قوانین، نفرت پر مبنی جرائم سے تحفظ، ہنگامی حالات میں مسلمانوں کی حراست کی صورتِ حال… یہ سب ایسی پارلیمانوں میں طے ہوئے یا طے ہوتے ہیں جن کے ارکان شہری منتخب کرتے ہیں۔
عقل کی حفاظت: منشیات، شراب اور جوئے سے متعلق قوانین، میڈیا اور اس ڈیجیٹل مواد کے ضوابط جو نئی نسل کی سوچ کو ڈھالتا ہے، اور جامعات میں تحقیق اور اظہارِ رائے کی آزادی… یہ سب منتخب ایوانوں میں طے ہوتے ہیں، اور ان کا اثر مسلمان اور اس کے بچوں کے ذہنوں تک پہنچتا ہے۔
نسل اور خاندان کی حفاظت: سرکاری اسکولوں کا نصاب، والدین کا اپنے بچوں کی دینی تربیت کا حق، طلاق، بچوں کی تحویل اور گود لینے سے متعلق خاندانی پالیسیاں… یہ صرف دینی معاملات نہیں، سیاسی معاملات بھی ہیں۔
مال کی حفاظت: معاشی پالیسیاں، ملازمت میں امتیازی سلوک کا خاتمہ، مسلم برادریوں میں چھوٹے کاروباروں کے لیے سرکاری معاونت… ان سب پر وہ لوگ اثر ڈالتے ہیں جو قانون ساز اداروں تک پہنچتے ہیں۔
ان پانچوں مقاصد پر غور کرنے والا دیکھتا ہے کہ جو مسلمان شرکت نہیں کرتا وہ اپنے دین کی حفاظت نہیں کر رہا، بلکہ اپنا فیصلہ ان دوسروں کے ہاتھ میں دے رہا ہے جو موجود ہوتے ہیں۔
چوتھی بات: خاموشی غیر جانب داری نہیں — ایک مغالطہ جسے بے نقاب کرنا ضروری ہے
اس باب میں سب سے عام مغالطوں میں سے ایک یہ ہے کہ ووٹ سے کنارہ کشی ایک غیر جانب دار موقف ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔
جب مسلمان ووٹ دینے سے رک جاتے ہیں تو وہ بھی نتیجہ بنانے میں حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ موجودگی سے نہیں بلکہ غیر حاضری سے۔ بیلٹ باکس غیر حاضر کو نہیں پہچانتا؛ وہ سیدھے حساب سے صرف یہ دکھاتا ہے کہ کون آیا اور کس نے اپنا انتخاب کیا۔
امریکی تاریخ ایسے گروہوں سے بھری ہے جنہیں بہت دیر سے سمجھ آئی کہ ان کی خاموشی دراصل اپنی تقدیر ان کے ہاتھ میں دینے کا فیصلہ تھی جو ان کی جگہ ووٹ دے رہے تھے۔ کئی فیصلہ کن امریکی ریاستوں (swing states) میں مسلمانوں کی تعداد بعض اوقات پچھلے انتخابات میں جیت کے فرق سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں، یہ حقیقی اثر و رسوخ ہے جسے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے اور ضائع بھی۔
پانچویں بات: شرکت کے اصول — نظام سے فائدہ اٹھائیں، اس میں گم نہ ہوں
شرکت کو جائز بلکہ پسندیدہ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ بغیر کسی اصول کے اس میں کود پڑا جائے یا سیاست کی بھٹی میں اپنی شناخت پگھلا دی جائے۔ کچھ اصول ہیں جو مسلمان کی شناخت کو محفوظ رکھتے اور اس کی شرکت کو درست سمت دیتے ہیں:
وفاداری مفاد سے، پارٹی سے نہیں۔ مغرب کا مسلمان نہ لازماً ریپبلکن ہے نہ ڈیموکریٹ۔ وہ ایک مسلمان ہے جو امیدواروں اور پالیسیوں کو اپنی مسلم برادری اور انسانیت کے مفاد کی کسوٹی پر پرکھتا ہے، پارٹی تعصب کی بنیاد پر نہیں۔ جو مسلمانوں کو نقصان پہنچائے وہ مخالفت کا مستحق ہے، اور جو ان کے حقوق کا دفاع کرے وہ حمایت کا، چاہے اس کی پارٹی کا جھنڈا کوئی بھی ہو۔
جانچ کے معیار واضح ہیں۔ مذہبی اور اظہارِ رائے کی آزادی، خارجہ پالیسی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے بارے میں اس کا رویہ، سماجی انصاف اور مساوات، امیگریشن کے مسائل… یہی جانچ کے اصل معیار ہیں، نہ کہ انتخابی مہم کے بلند بانگ نعرے۔
انتخابی استحصال سے ہوشیار رہیں۔ بعض سیاست دان انتخابات کے موسم میں مسلمانوں کے قریب آتے ہیں اور پھر انہیں بھول جاتے ہیں۔ پختہ شرکت میں انتخاب سے پہلے ہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی مسلسل نگرانی اور احتساب شامل ہے، اور فیصلہ سازوں کے ساتھ دیرپا ادارہ جاتی تعلقات بنانا بھی۔
شناخت بیلٹ باکس سے کہیں گہری ہے۔ ووٹ ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔ مسلمان ووٹ بھی دیتا ہے، تعلیم بھی دیتا ہے، اداروں میں بھی شریک ہوتا ہے اور اپنے سماجی روابط بھی بناتا ہے؛ ووٹ اس منصوبے کا ایک حصہ ہے، پورا منصوبہ نہیں۔
اختتامیہ: میدان میں موجودگی فرض ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾«اور ان کے مقابلے کے لیے جتنی طاقت تم سے ہو سکے تیار رکھو۔» (الانفال: ۶۰)
ہر دور میں طاقت اسی دور کے دستیاب وسائل سے بنتی ہے۔ جدید ریاست اور نمائندہ جمہوریت کے اس دور میں دستیاب طاقت کے ذرائع میں بیلٹ باکس، قانون ساز اداروں میں نمائندگی اور شہری شرکت شامل ہیں۔
مغرب کا مسلمان امریکہ یا یورپ کی سرزمین پر خلافت کے انتظار میں زندگی نہیں گزار رہا۔ وہ ابھی، اسی معاشرے میں جہاں اس نے رہنا پسند کیا یا جہاں وہ پیدا ہوا، اس تاریخی دور کے دستیاب ذرائع سے اپنی موجودگی کی تعمیر کر رہا ہے۔ دین کے نام پر کنارہ کشی نے مسلمانوں کو کبھی شریعت کے قریب نہیں کیا؛ البتہ اس نے انہیں اس معاشرے میں اپنے بنیادی مفادات کے تحفظ سے ضرور دور کر دیا جس میں وہ رہتے ہیں۔
میدان میں موجودگی فرض ہے۔ ووٹ ایک امانت ہے۔ اور دین کے نام پر اس امانت کو ضائع کرنا ذمہ داری سے بری نہیں کرتا، بلکہ اس کا بوجھ اور بڑھا دیتا ہے۔
یہ مضمون ایک فقہی و مقاصدی نقطۂ نظر ہے جو کسی بھی پارٹی یا مخصوص امیدوار سے آزاد ہے۔
تبصرے
مضمون کے بارے میں کوئی فائدہ یا نوٹ شیئر کریں، ہم آپ کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ابھی تک کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں۔